ابنا: اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر بن امرسن نے کہا ہے کہ جب ایک شخص سیاسی احتجاج کے طور پر کھانا کھانے سے انکار کرتا ہے اور بھوک ہڑتال کرت ہے تو ایسے حالات میں اسے کھانا کھانے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے۔ بن امرسن کا کہنا تھا کہ بھوک ہڑتال کرنے والے ان قیدیوں کو ایک بڑی نلی کے ذریعے وحشیانہ طریقے سے کھانا کھلایا جاتا ہے اور کھانا اس نلی کے ذریعے زبردستی ان کے معدے میں پہنچایا جاتا ہے۔
امریکہ کے سیاسی مسائل کے تجزیہ نگار رالف شومین نے بھی کہا ہے کہ گوانتاناموں کے قیدیوں کی ایک سو دن سے زائد کی بھوک ہڑتال اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ اس جیل میں بند قیدیوں نے توہین اور شکنجوں سے تنگ آ کر یہ اقدام کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قیدیوں کے ساتھ گوانتانامو کے حکام کا رویہ اتنا غیرانسانی اور غیراخلاقی ہے کہ اس کے خلاف امریکی عوام اور انسانی حقوق کی تمام تنظیموں پر آواز بلند کی ہے۔ اب تک امریکہ کے کئي شہروں میں اس کے خلاف مظاہرے بھی ہو چکے ہیں اور جمعہ کے روز ان قیدیوں کی بھوک ہڑتال کو ایک سو دن پورے ہونے پر امریکی عوام کے ایک گروہ نے وائٹ ہاؤس کے سامنے اس کے خلاف مظاہرہ بھی کیا تھا۔
مظاہرین نے امریکی صدر سے گوانتانامو جیل کو بند کرنے کے اپنے وعدے پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔ امریکی پولیس نے ہمیشہ کی طرح مظاہرین پر دھاوا بول دیا اور پرامن مظاہرہ کرنے والے بعض افراد کو گرفتار کر لیا۔ امریکہ سے باہر بھی کئي شہروں میں اس سلسلے میں مظاہرے ہوئے ہیں۔ گوانتانامو کے قیدیوں کو بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ایک سو دن سے زیادہ ہو گئے ہیں لیکن امریکی حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔
امریکی حکومت کا واحد ردعمل یہ سامنے آیا کہ بھوک ہڑتالی قیدیوں کی ناک کے سوراخوں میں زبردستی کھانے کی نالیاں ڈال دی گئيں۔ امریکی صدر باراک اوباما نے دو ہزار نو میں وعدہ کیا تھا کہ وہ گونتانامو جیل کو بند کر دیں گے لیکن اب دو ہزار تیرہ اپنا تقریبا آدھا سفر طے کر چکا ہے لیکن اس وعدے پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ اس وقت گوانتانامو جیل میں تقریبا ایک سو ستر قیدی موجود ہیں کہ جن میں اکثر پر فرد جرم عائد نہیں کی گئي ہے اور وہ کسی عدالتی کارروائي کے بغیر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔
.....
/169